Thursday, April 26, 2012

اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات



Posted: 24 Apr 2012 05:04 PM PDT
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گذشتہ سے پیوستہ
پچھلی تحریر ”اردو بلاگ کی ٹریفک کیسے بڑھائیں“ میں پہلی وجہ پر بات کی تھی اور ابھی دیگر وجوہات پر بات کرتے ہیں۔
میری نظر میں اردو بلاگوں پر ٹریفک کم ہونے کی دوسری بڑی وجہ کم مواد ہے۔ گو کہ اب انٹرنیٹ پر اچھی بھلی اردو نظر آنا شروع ہو گئی ہے لیکن ابھی تک اردو بلاگوں/ویب سائیٹوں پر اتنا مواد نہیں ہو سکا کہ تمام ضروری چیزوں کے بارے میں معلومات مل سکے۔ یار لوگ کہتے ہیں کہ فلاں بندہ بلاگنگ نہیں بلکہ کاپی پیسٹ کرتا ہے تو اس پر میرا خیال ہے کہ اس وقت ہمیں یہ چیز نہیں دیکھنی چاہئے کہ فلاں بلاگنگ کر رہا ہے یا نہیں فی الحال یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا فلاں کا مواد انٹرنیٹ پر اردو کے حوالے سے بہتر اضافہ ہے یا نہیں۔ ویسے بھی بلاگنگ کی تعریف کرنے چلیں تو دو صورتیں سامنے آئیں گی۔ ایک صورت میں اپنی دیگر قسم کی ویب سائیٹوں کو بلاگ کہنے والے باہر نکل جائیں گے اور پیچھے دو چار لوگ رہ جائیں گے۔ ایسی صورت میں شاید آپ میرا بھی خروج لگا دیں، اور دوسری صورت میں زیادہ تر ویب سائیٹوں کا شمار بلاگوں میں ہونے لگے گا۔ خیر یہ ایک علیحدہ اور تفصیل و بحث طلب موضوع ہے۔ فی الحال ہمیں بھیڑ چال کی بجائے نئے سے نیا اور بہتر سے بہتر اردو مواد انٹرنیٹ پر ڈالنا چاہئے تاکہ جب لوگ اردو مواد تلاش کریں تو انہیں معقول مواد مل سکے۔ کافی عرصہ پہلے ”ایک بلاگر ایک کتاب“ کے نام سے مہم شروع ہوئی تھی اور چند ایک بلاگر ہی اس پر عمل کر سکے تھے۔ کاش پھر کوئی ایسی یا اس سے ملتی جلتی مہم شروع ہو اور ہم مل کر بہتر اردو مواد انٹرنیٹ پر لا سکیں۔
اردو بلاگوں پر ٹریفک کم ہونے کی تیسری وجہ گوکہ اتنی بڑی نہیں لیکن آج کل جس انداز میں ہم لوگ چل رہے ہیں، اس نے عجیب سی صورت حال بنا دی ہے۔ اردو بلاگران اور اردو پڑھنے کے خواہش مند چند افراد کا ایک گروہ وجود میں آچکا ہے۔ اردو کے حوالے سے تقریباً یہی لوگ آپ کو مختلف اردو فورمز پر ملیں گے، یہی لوگ اردو بلاگنگ میں نظر آئیں گے اور فیس بک پر بھی یہی لوگ ہوں گے جو اردو لکھ رہے ہوں گے یعنی اردو کے حوالے سے جہاں دیکھو یہی چند مٹھی بھر لوگ۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس گروہ میں اضافہ بہت آہستہ سے ہو رہا ہے۔ چھوٹی سی بات یہ کہ مجھے لگتا ہے، جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے کہ اردو والے علیحدہ گروہ (Isolated Group) بنائے بیٹھے ہیں اور بہت ہی کم لوگ اس گروہ سے باہر دیکھتے ہیں اور جنہوں نے دیکھا ان کی اکثریت دنیا کی ”احساسِ کمتریوں“ سے متاثر ہو کر اردو سے دور ہو گئی۔ جبکہ ہونا تو ایسا چاہئے تھا کہ وہ باہر دیکھتے اور مزید لوگوں کو اپنی طرف قائل کرتے، مگر افسوس! وہ خود قائل ہو گئے۔
فیس بک پر اردو کے حوالے سے کئی مختلف گروپ بنا دیئے گئے ہیں لیکن جس گروپ میں دیکھو یہی مٹھی بھر لوگ ہیں اور تمام گروپ ایک ہی طرز پر چل رہے ہیں۔ وہی لوگ گروپ ”الف“ میں ہیں، وہی ”ب“ میں اور وہی ”ج“ میں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ہم اپنی تحریر شیئر تو مختلف گروہوں میں کرتے ہیں مگر ان گروہوں میں موجود وہی مٹھی بھر لوگ ہیں۔ دیکھا جائے تو ان گروہوں کے لوگ تو ویسے ہی اردو سیارہ اور اردو کے سب رنگ وغیرہ دیکھتے ہیں اور تحریر تک پہنچ آتے ہیں۔ بے شک انہیں مخصوص گروہوں میں ایک ہی تحریر بار بار ایک دوسرے کے سامنے پیش کریں مگر ساتھ ساتھ ہمیں نئی تحاریر ادھر ادھر ایسے گروہوں میں اور ایسے لوگوں سے بھی شیئر کرنی چاہئے جو اردو مواد پڑھنا تو چاہتے ہیں لیکن آج تک اردو بلاگستان تک رسائی نہیں حاصل کر پائے۔ اگر آپ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹوں پر کسی سیاسی، مذہبی یا ٹیکنالوجی وغیرہ کے متعلق پاکستانی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں تو وہاں پر موضوع سے متعلقہ اردو تحاریر بھی شیئر کیا کریں۔ یہ نہ سوچیں کہ باقی سب انگریزی تحریر شیئر کر رہے اور آپ اردو، بس یہ دیکھیں کہ جہاں آپ تحریر شیئر کر رہے ہیں وہاں پر موجود لوگ اردو پڑھنا جانتے ہیں یا نہیں اور شیئر کی جانی والی تحریر موضوع سے تعلق رکھتی ہے یا نہیں۔ مزید ہمیں ادھر ادھر ہر جگہ اردو لکھنی چاہئے، دیگر گروہوں کے ساتھ شامل ہو کر اردو میں بات چیت کرنی چاہئے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس طرف لانا چاہئے۔ جیسا کہ پچھلی تحریر میں لکھا تھا کہ انٹرنیٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے کے خواہش مند افراد خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر غلط انداز میں تلاش کرنے کی وجہ سے ان کی اردو مواد تک رسائی نہیں ہو پاتی۔

اردو کے چند مخصوص گروہوں سے باہر نکلیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اردو بلاگستان، اردو لکھنے اور گوگل میں اردو میں تلاش کرنے کی آواز پہنچائیں۔ یوں خودبخود اردو بلاگوں کی ٹریفک بڑھ جائے گی۔

چلتے چلتے بونگی نما خوش فہمی:- آپس کی بات ہے کشتی کنارے کے قریب ہے اور آخری منجدھار کشتی ڈبونے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ کامیابی سے کنارے لگتی ہے یا ڈوب جاتی ہے۔ ویسے مزہ تو اسی میں ہے کہ جس کے سنگ چلے تھے اگر وہ ڈوبے تو اس کے ساتھ ہی ڈوب جائیں۔ بھیچ منجدھار میں ساتھ چھوڑنا تو بے وفائی عظیم ہے۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔
(جاری ہے)

ضروری نوٹ:-

اگلی تحریر اس سلسلہ کی تیسری اور آخری تحریر ہو گی۔ اس میں شعیب صفدر صاحب کے اردو بلاگر گروپ میں شروع کردہ سوالنامہ کے ایک ایک جواب کو دیکھتے ہیں، لیکن اس سے پہلے ٹیگ کا ایک سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ جس میں لکھنا صرف یہ ہے کہ آپ کی نظر میں اردو بلاگوں کے قارئین/وزیٹر کم ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور ان کا سدِباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ بہتر تو یہ ہے کہ آپ تھوڑی تفصیلی وضاحت کریں لیکن یہ نہ ہو کہ تفصیل میں جاتے جاتے کوئی بھی کچھ بھی نہ لکھے، اس لئے لازمی نہیں کہ آپ کوئی لمبی چوڑی تحاریر میں تجزیہ پیش کریں بلکہ بے شک چند سطور ہی لکھ دیں تو ہمیں ایک دوسرے سے کافی کچھ سیکھنے کو مل جائے گا۔
ہاں تو میں اس سلسلہ میں ٹیگ کرتا ہوں پورے ”اردو بلاگستان“ کو۔۔۔ مزاح لکھنے والے مزاحیہ انداز میں اس مسئلہ کو بیان کریں، فلاسفر فلسفہ جھاڑیں، جن کو ہم جیسے نکمے دوستوں کی کمی ہے وہ اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے نکمے لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں، جو اپنے دشمنوں سے تنگ ہے وہ حفاظتی تدابیر لکھیں اور جو یکسانیت و محدود سوچ سے بیزار ہیں وہ نئے ”آئیڈیاز“ دیں تاکہ بہتری کی طرف سفر کیا جا سکے۔ملتی جلتی تحاریر:-     • اردو بلاگ کی ٹریفک کیسے بڑھائیں؟     • آپ کو پاک اردو انسٹالر کا کیا فائدہ؟     • بلاگ کیا ہے؟

No comments: