Friday, March 2, 2012

Mini Clip 007 - Maulana Muhammad Makki Al Hijazi - Dajjal - Hazrat Esa AS - Yajooj Majooj.flv


Mini Clip 007 - Maulana Muhammad Makki Al Hijazi - Dajjal - Hazrat Esa AS - Yajooj Majooj.flv

کمپیوٹر کی کہانی


کمپیوٹر کی کہانی

برقیہچھاپیے
٭قاضی مشتاق احمد
نیو یارک کی سڑکوں پر رات کے وقت پولیس کوایک کارگلی میں پارک کی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی گشتی گاڑی کے فون سے تھانے سے کارکا نمبرمعلوم کرتا ہے۔ صرف آدھے منٹ کے اندر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کار کس کے نام پررجسٹرڈ ہے اور یہ گاڑی چوری ہو جانے کی رپورٹ تھانے میں درج ہے۔ یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ گشتی دستہ ایک منٹ کے اندر ہی قانونی کارروائی شروع کردیتا ہے۔بلجیم کے راستے پرایک خطرناک حادثے میں ایک نوجوان مر گیا ہے اس کی لاش اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لئے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ یورپ کے سارے اسپتالوںکو بیک وقت میہا کی جارہی ہے اور فوراً یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جرمنی کے ایک مریض کو اورلندن کے ایک دوسرے مریض کو بلجیم میں مرنے والے نوجوان کے گردے کام آسکتے ہیں۔ ایک گھنٹے کے اندرہی ایک گردہ جرمنی اوردوسرا لندن ہوائی جہاز کے ذریعہ روانہ ہو جاتا ہے اورزندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا دو مریض نئی زندگی پاتے ہیں۔ لندن کی ایک کانفرنس میں شکاگو کا ایک سائنسداں یکا یک بے ہوش ہوجاتاہے۔ شکاگو کوفوراً فون پرمطلع کیا جاتاہے سائنس داں کے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی پانچ منٹ کے اندر اندر سیکڑوں میل دور سے اس بے ہوش سائنس داں کے بارے میں ساری معلومات مل جاتی ہیں کہ اس کے خون کاگروپ کیا ہے۔ اسے کن دواو ¿ں سے الرجی ہے۔ آج تک اسے کون کون سے بیماریاں اور مرض ہوئے ہیں اورسائنس داں کے اسپتال میں داخل ہوتے ہی علاج شروع ہوجاتا ہے۔
یہ سب خیالی قصے نہیں بلکہ سچے واقعات ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ یہ سب اس عظیم ایجاد کے کرشمے ہیں جسے کمپیوٹر کہتے ہیں۔ آج دنیا میں جو کمپیوٹر استعمال کئے جارہے ہیں وہ عام طور پرٹی وی کی طرح نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹائپ رائٹر کی طرح ایک کی بورڈ ہوتا ہے جو کمپیوٹر کے پردے پر نظر آنے والی معلومات فوراً ٹائپ کر کے اس کی کاپی مہیا کر سکتا ہے۔ کمپیوٹر کا استعمال صرف جمع تفریق کے لئے نہیں ہوتابلکہ نہایت ہی پیچیدہ حساب حل کرنے کے لئے بھی ہوتاہے۔ اس کی مہیا کی ہوئی معلومات جس طرح بھی چاہیں استعمال ہوسکتی ہےں۔
الیکٹرانک کمپیوٹر کا استعمال گذشتہ تیس چالیس برسوں سے ہو رہاہے۔ کہا جاتاہے کہ تیس ہزار سال قبل از مسیح چینی اور جاپانی لوگ، ایبکس نامی ایک مشین کا استعمال جمع تفریق کے حساب کے لئے کرتے تھے۔ لکڑی کی چوکھٹ میں تار بٹھائے جاتے تھے اوران تاروں میں رنگین لکڑی کی گوٹیاں رکھی جاتی تھیں۔ 1642میں بلیز پاسکل نامی ایک فرانسیسی نے اس میں اور ترقی کی۔ یہ مشین رکشا یا اسکوٹر کے ’آڈومیٹر‘ کی طرح تھی۔ (یہ میٹر فاصلہ بتاتے ہیں یا رکشا کے موٹر کاکرایہ دکھاتے ہیں۔) 1671میں ولیم لائی نیز نامی ایک جرمن حساب داں نے اسے نیا روپ دیا اور 1694میں اس نے اپنا کام پورا کیا۔ حساب جمع تفریق کرنے والی مشین ایجاد ہوئی۔ لیکن جدید کمپیوٹر کا موجد ہے چارلس بیز جو انگلستان کا رہنے والاتھا اس نے 1822میں ’ڈفرنس انجن‘ کے نام سے کمپیوٹر ایجاد کیا۔ اس کے بعد اس میں مزید اصلاح کر کے اسے انالیٹکل انجن کا نام دیا اور دھیرے دھیرے جدید کمپیوٹر ایجادہوا۔ آج برٹش ایئرویز 70ملکوں میں 650شہروں کی بکنگ آفسوں کا کام کمپیوٹر کی مدد سے کرتی ہے۔ ہر روز چالیس ہزارمسافروں کی بکنگ کا کام ہوتاہے۔ سیکنڈوں میں کمپیوٹر کے ذریعے یہ معلومات مل جاتی ہے کہ ریزرویشن کے لئے کتنی سیٹیں خالی ہیں۔ اب بینکوں میں بھی کمپیوٹر کا استعمال عام ہے۔ صرف بٹن دبا کر یہ دیکھا جاسکتاہے کہ بینک کے کھاتے دار کی دستخط اصلی ہے یا بناوٹی۔ پیسے نکالنے اور جمع کرنے کا حساب بھی کمپیوٹر کرتاہے۔ مقناطیسی چیک کمپیوٹر میں ڈالتے ہی کھاتے دارکے دستخط چیک کرنے کے بعد اس کے حساب میں چیک کی رقم ڈال کر پیسے دینے والی مشین سے مطلوبہ رقم نوٹوں اور سکوں کے ذریعے باہر آجاتی ہے۔

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ


کمپیوٹر اور انٹرنیٹ




 انسان  کی فضیلت

انسان کو اللہ تعالی نے تمام مخلوقات سے بلند درجہ عطا کیا ہے  انسان نے اپنی عقل سے کام لے کر دنیا میں حیران کن کرنے والی ایجادات کیں اور آج ساری دنیا میں نظر آنے والی رونق انسان کی فضیلت کی گواہ ہے آج دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے اور انسان اپنے سارے مسلے گھر بیٹھے حل کر سکتا ہے۔ 

حیران کن ایجادات 

یوں تو ہر ایجاد اپنی جگہ حیران کن ہوتی ہے لیکن کمپیوٹر کی ایجاد سے انسانی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو گیا ہے انسان کو انسان  سے قریب لانےحیران کن ہوتی ہے لیکن کمپیوٹر کی ایجاد سے انسانی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو گیا ہے انسان کو انسان  سے قریب لانے کیلے ٹیلی ویثرن ریڑیو یا ٹیلی فون نے تو اہم کردار ادا کیا ہی تھا لیکن کمپیوٹر اور انٹر نیٹ سے تمام درمیانی فاصلے ختم ہو کر رہ گے ہیں انٹرنیٹ تکینکی طور پر انٹرنیٹ کمپیوٹر کا ایسا جال ہے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اسے آج سے 25 برس پہلے امریکہ نے ایجاد کیا تھا شروع شروع میں اس کا مقصد صرف دفاعی نقاصد کی تکمیل تھی اس سائنسی ایجاد نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری پیدا ہو رہی ہے اور انٹر نیٹ کا جال اب پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ساری دنیا ہے اس کی مٹھی میں ایسی ایجاد ہے انٹر نیٹ

 مفید ایجاد

انٹر نیٹ بےحد مفید ایجاد ہے اس کی بدولت تعلیمی  تجارتی اور معاشرتی میدان میں  ایک انقلاب آ گیا ہے اس کی مدد سے آپس میں بکا جال اب پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ساری دنیا ہے اس کی مٹھی میں ایسی ایجاد ہے اس کی مدد سے آ پس  میں سائنسی اور سماجی اطلاعات کافی الفور رابطہ کیا جا سکتا ہے انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا بھر کی تازہ ترین صورت حال کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔
 معلومات کی فراہمی ؛
 انٹر نیٹ نے انسانی زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں کو بھی شعبہ ہوانسان کسی علاقے میں رہائشں پزیر ہو اسے اپنے شعبے یا مشاغل کے بارے میں معلو مات حاصل ہو سکتی ہیں انٹرنیٹ  کی مدد سے دنیا کی بڑی بڑی مار کیٹوں سے براہ راست خریراری ہو سکتی ہے انٹر نیٹ کے زریعے سے الفاظ اور تصا ویر کی صورت میں کمپیوٹر کی سکریںن پر تمام معلومات  فراہم ہو سکتی ہیں ۔

 مربوط نظام

'انٹرنیٹ پر اطٹیلی فون کی طرح کمپیوٹر اور انٹرنیٹ بھی ہر گھر کی ضرورت ہو گا ۔
لاعات کا ایک مربوط نظام موجود ہوتا ہے آپ اس کی مدد سے دنیا بھر کے رسالے اور بین الاقوامی اخباروں کا مطالعہ کر سکتے ہیں انٹرنیٹ سے کام لیتے ہوئے دنیا کی کسی بھی لائبریری تک رسائی حاصل کر کے مطلوبہ لٹریچر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 

 ترقی کا زینہ 

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے ترقی کی منزلیں آسان کر دی ہیں اس نے ہماری نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے آج زندگی کا  کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں کمپیوٹر سے فائد ہ حاصل نہ کیا جا رہا ہو کمپیوٹر کی بدولت ہر محکمے میں پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ کام ہو رہا ہیں۔

تعلیمی ادارے اور کمپیوٹر

 یونیورسٹیوں کالجوں اسکولوں اور دیگر مدارس میں بھی کمپیوٹر کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور طلبہ کی بہت بڑی تعداد دوسرے سائنسی مضامین کے ساتھ ساتھ  کمپیوٹر کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں وہ وقت جلد آنے والا ہے جب ٹیلی فون کی طرح کمپیوٹر اور انٹرنیٹ بھی  ساتھ ساتھ  کمپیوٹر کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں وہ وقت جلد آنے والا ہے جب