The title of your home page You could put your verification ID in a comment Or, in its own meta tag Or, as one of your keywords Your content is here. The verification ID will NOT be detected if you put it here.

Total Pageviews

Google Add

Monday, August 13, 2012


Posted: 28 Jul 2012 03:42 PM PDT

راما کا خوبصورت میدان
وہ کسی کا گھر تھا یا کچھ اور بہرحال جب وہاں سے راما کا راستہ معلوم کرنے کے بعد سلیم اور عباس گاڑی میں پہنچے تو سب سے پہلے انہوں نے یہی بتایا کہ ہم ٹھیک طرف جا رہے ہیں۔ گاڑی چل پڑی اور ساتھ ہی بڑے چہک چہک کر بتانے لگے کہ بھلا ہمیں راستہ کس نے بتایا ہے؟ سب لوگ سارا دن سفر کی وجہ سے تھکے ہوئے تھے اور نڈھال اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھے کم اور لیٹے زیادہ تھے۔ کسی نے بھی ان کے سوال کا نوٹس نہ لیا تو وہ خود ہی بول پڑے کہ ہمیں رستہ ”پریوں کے ریوڑ“ نے بتایا ہے۔ پریوں کا ریوڑ؟؟؟ سب کے کان کھڑے ہو گئے۔ میں اور عبدالستار پوری بات بتاؤ، پوری بات بتاؤ، کہتے ہوئے مڑ مڑ کر اس گھر کو دیکھنے لگے، جہاں سے ریوڑ برآمد ہوا تھا۔ جب تجسس کا پیمانہ لبریز ہوا تو میں نے تمام ادب و احترام وادی کی سب سے تاریک کھائی میں پھینکتے ہوئے کہا کہ اب آپ تفصیلی ”بکواس“ فرمائیں گے یا میں گاڑی رکوا کر خود دیکھ آؤں۔ وہ دونوں بول پڑے کہ جب ہم اس گھر کے دروازے پر پہنچیں تو دروازہ کھلا تھا، سامنے کوئی نظر نہیں آرہا تھا مگر اندر سے بہت زور سے ہنسنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ دروازے پر کوئی گھنٹی نہیں تھی اور دروازہ ایسا تھا کہ کھٹکھٹانے سے اندر اطلاع نہیں ہو سکتی تھی تو ہم نے زور سے ”السلام علیکم“ کہا ہی تھا کہ اندر سے پانچ سات پریاں، بغیر سر ڈھانپے اور ننگے پاؤں ”وعلیکم السلام“ کہتی اور دوڑتیں ہمارے پاس آ کھڑی ہوئیں۔ سلیم نے بتایا کہ ایک دفعہ تو میرے پیروں تلے سے زمین بھی نکل گئی کیونکہ آٹھ دس سال پہلے تک تو یہ وہ بستیاں تھیں جہاں پر عورت ذات ایسے رہتی کہ جیسے یہاں پر عورتیں ہیں ہی نہیں۔ مگر اس طرح پریوں کا ریوڑ دیکھ کر میرے تو ہوش ہی اڑ گئے اور مجھے ایک دفعہ لگا کہ یقینا یہ کوئی خواب ہے یا پھر میں کوہ ہمالیہ کی بجائے کوہ قاف پہنچ چکا ہوں۔ بہرحال ہم نے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا کہ ہمیں راما جانا ہے اور راستہ نہیں معلوم۔ پریوں کو لگا کہ جیسے یہ دونوں پیدل ہیں اور راستہ بھول کر ہماری سلطنت کے دروازے پر پہنچ آئے ہیں تو گویا وہ اپنی اس سوچ پر زور سے ہنسیں۔ شاید ان کی سوچ کو عباس بھانپ گیا اور بولا کہ ہم گاڑی میں پانچ دس لوگ ہیں اور وہ نیچے اندھیری سڑک پر ہماری گاڑی کھڑی ہے، ہمیں راما جانا ہے، راستہ نہیں معلوم، بس پوچھنے ہی آئے تھے۔ پریوں نے اوپر سے ہی تھوڑا آگے ہو کر نیچے کھڑی گاڑی کو دیکھا اور کہا کہ آپ ٹھیک طرف جا رہے ہیں اور آپ کی گاڑی راما تک چلی جائے گی۔


عباس اور سلیم نے اتنی بات ہی بتائی تھی کہ میں بولا کاش جب پریاں گاڑی کو دیکھنے کے لئے آگے ہوئی تھیں تو تب ہم اوپر دیکھ رہے ہوتے تو ہمیں بھی دیدار کا شرف حاصل ہو جاتا، خیر پریوں نے کہا بھی ہے اور گاڑی پر نظر کرم بھی کی ہے تو پھر یقیناً ہم راما پہنچ ہی جائیں گے۔ ویسے یارو! تم دونوں تو شادی شدہ تھے، بھلا جب پریاں باہر آئیں تھیں تو انہیں کہنا تھا کہ
”وہ کیا ہے کہ ہ ہ ہ ۔۔۔ وہ ہ ہ ہ ۔۔۔ ہم کچھ پوچھنے آئے تھے مگر بھول گئے ہیں، نیچے گاڑی میں ہمارے دوست ہیں، انہیں یاد ہو گا کہ ہم کیا پوچھنے آئے تھے، آپ یہیں ٹھہرو اور کہیں نہ جانا، ہم نیچے گاڑی میں جا کر انہیں بھیجتے ہیں۔“
”کمبختو“ یہ کہہ کر واپس آ جاتے اور مجھے پریوں سے راستہ معلوم کرنے بھیج دیتے، چلو اسی بہانے ہو سکتا ہے کہ کوئی پری اس ”جن“ پر فدا ہی ہو جاتی۔ :-) ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ کر لو گل! او نالائقو، تہانوں نئیں پتہ۔ یہ پریاں صدیوں بعد پرستان سے نکلتی ہیں اور تم لوگوں نے صدیوں بعد ملنے والے اس موقعہ کو بھی ضائع کروا دیا۔ کاش میں خود راستہ معلوم کرنے چلا جاتا۔ اتنے میں گاڑی ایک موڑ مڑی اور وہ گھر وادیوں کی گہرائیوں میں کہیں کھو گیا۔ ہم پل دو پل کے مہمان تھے اور ہماری منزل ”ٹھہرنا“ نہیں۔ ہم ایسے مسافر ہیں جو کہیں تھوڑی دیر راستہ معلوم کرنے جیسا سستا تو سکتے ہیں مگر جلد ہی ہمیں منزل کی طرف چلنا ہوتا ہے۔ یہ راستے کے اتار چڑھاؤ تو آتے ہیں، کہیں آہستہ سے تو کہیں تیزی سے گزرنا ہے اور ان عارضی لمحات کو بھول کرنظر تو بس اپنی منزل پر رکھنی ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا، اِدھر گاڑی موڑ مڑی اُدھر ہم بھول بھی گئے کہ پچھلے موڑ پر کیا ہوا تھا۔ اب ہماری سوچیں راما پر مرکوز تھیں، جہاں خوبصورت سرسبز پہاڑ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر چاندنی میں نہاتی برف، نیچے وسیع جنگل، جنگل میں منگل کرتا ہری گھاس والا میدان، میدان کے آس پاس جنگلی پھول، جھرنوں کی صدائیں اوران صداؤں پر جھومتا طلسم تھا۔ جو ہمیں سب کچھ بھولنے پر مجبور کر رہا تھا اور ایک بہت زبردست طاقت والا مقناطیس ہمیں اپنی طرف کھینچ رہا تھا جبھی تو ہم رات کی تاریکی میں بھی سفر کیے جا رہے تھے۔ ایک طرف بلندوبالا پہاڑ تو دوسری طرف ہزاروں فٹ گہری کھائی۔ ٹوٹی سڑک اور سڑک سے گزرتے چھوٹے چھوٹے نالے۔ مگر پھر بھی ہمارا سفر جاری تھا۔


راما میدان کے کنارے بہتا ہوا پانی
راما سطح سمندر سے تقریباً 3175 میٹر بلند ہے۔ رات کے تقریباً دس بجے ہم راما پہنچ گئے۔ پہنچ کر معلوم ہوا کہ راما میں پی ٹی ڈی سی موٹل (PTDC Motel) کے علاوہ اب ایک نیا ہوٹل بھی بن چکا ہے۔ ہم گاڑی میں ہی بیٹھے رہے، سلیم اور عبدالرؤف اس کی معلومات لینے گئے تاکہ کیمپنگ کے ساتھ ساتھ ایک کمرہ بھی حاصل کر لیا جائے۔ وہ کیا ہے کہ کمرہ اس لئے لیا جاتا ہے کہ ایک تو کمرے کے ساتھ غسل خانہ ”مفت“ ہوتا ہے دوسرا کوئی دوست خیمے کی بجائے کمرے میں رہنا چاہے تو رہ لے۔

پتہ چلا کہ بلتستا ن کے چیف جسٹس صاحب اس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں لہٰذا عام عوام کو کمرہ نہیں مل سکتا۔ یوں ہم کیمپنگ کے لئے کسی اچھی جگہ کا انتخاب کرنے لگے۔ تھوڑی دور سے لڑکوں کے شور شرابے کی آواز آ رہی تھی، ہم اس طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ یہاں تو ”بون فائر“ چل رہا ہے اور دیکھنے میں تو یہ سولہ سترہ سال کے سکول کے بچے لگ رہے تھے مگر تب ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہ اصل میں کون ہیں۔ یہ لوگ راما کے خوبصورت میدان کو چھوڑ کر جہاں سے جنگل شروع ہوتا ہے وہاں پر درختوں میں خیمے لگائے ہوئے تھے۔ ہم ادھر پہنچے ہی تھے کہ ان کا استاد ہمارے پاس آیا، تھوڑی بہت سلام دعا اور تعارف ہوا۔ تعارف کے مطابق تو وہ گلگت کے کسی سکول کے بچے تھے اور یہ ان کا استاد ہے۔ استاد کہنے لگا کہ آپ یہیں ہمارے پاس ہی خیمے لگاؤ۔ گپ شپ کرتے ہیں اور بون فائر کے مزے لیتے ہیں۔ پتہ نہیں سب کیوں راضی ہو گئے، شاید اس لالچ سے کہ ہم نے بھی بون فائر کرنا ہے چلو ان کے ساتھ ہوں گے تو لکڑیوں کا بندوبست نہیں کرنا پڑے گا۔ خیر میرا دل تھا کہ ہم راما کے بڑے میدان کے اس پار خیمے لگائیں تاکہ ساری رات برف پوش چوٹیوں سے چاندنی ٹکرا ٹکرا کر ہم تک پہنچے اور روح تک اتر جائے۔ خیمے لگانے بارے میں بحث شروع ہوئی اور یہ ہمارے سفر کی پہلی طویل بحث تھی۔ میں اور عبدالرؤف اس شور شرابے سے دور چاندنی میں خیمے لگانے کے حق میں تھے اور باقیوں میں کوئی خاموش تھا تو کوئی ادھر ہی لگانے کے حق میں تھا۔ خیر سلیم کا خیال تھا کہ ہم ادھر ہی ان بلتیوں کے پاس خیمے لگائیں تو پھر ہم بھی راضی ہو گئے۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج رات ہم پر کیا گزرنے والی ہے۔

راما کے جنگل سے گزرتا ہوا راستہ
ماحول کافی سرد ہو چکا تھا اور بہت ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ میں گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی جیکٹ پہن چکا تھا مگر پیروں میں ابھی بھی کھلی جوتی تھی۔ خیمے لگانے اور ان میں ضروری سازوسامان جیسے سلیپنگ بیگ وغیرہ رکھنے کے بعد میں نے سب سے پہلے بوٹ پہنے۔ اتنے میں وہ بلتی بچے اور ان کا استاد مل بیٹھنے کا دعوت نامہ لے کر آ گئے اور ہم ان کے ساتھ بون فائر میں شریک ہونے چل پڑے۔ صبح سے سفر کر رہے تھے اور بہت تھکاوٹ ہو چکی تھی اس لئے ہمارا خیال تھا کہ تھوڑی دیر موج مستی کرتے ہیں پھر آرام کریں گے۔


ان بلتی بچوں میں سے ایک ڈھول بجا رہا تھا اور باقی شینا یا بلتی زبان میں گاتے ہوئے آگ کے گرد گول دائرے میں ناچ رہے تھے۔ اس طرح کا ناچ اور وہ بھی جنگل میں اوپر سے کسی عجب زبان میں منتر بھی چل رہے ہیں۔ مجھے تو سب عجیب ہی لگ رہا تھا۔ خیر انہوں نے ہمیں بھی ناچنے اور ہلہ گلہ کرنے کی دعوت دی اور پکڑ پکڑ کر دائرے میں شامل کرتے۔ اجی میں ٹھہرا اس معاملے میں شرمیلا، لہٰذا میں تصویر کشی کرتا رہا اور سب سے پہلے سلیم، پھر عباس، عبدالرؤف، عبدالستار اور پھر میر جمال بھی ناچنے لگا۔ ویسے اپنے ان دوستوں کو ایک ساتھ ناچتے ہوئے میں پہلی بار دیکھ رہا تھا اور بہت ہی لطف اندوز ہو رہا تھا کیونکہ انہوں نے ناچنا کیا خاک تھا بس گھوڑے کی طرح ”دولتیاں“ مارتے ہوئے ہاتھ لہرا رہے تھے۔ بہرحال مزہ آ رہا تھا۔ بچوں کا استاد جا چکا تھا اور اب بلتی بچے کچھ کھل ڈل کر باتیں کرنے لگے۔ بلتیوں نے کہا کہ اب آپ اپنی پنجابی میں گانا گاؤ اور سب ناچتے ہیں۔ عباس اور عبدالرؤف نے کمال کر دیا۔ منجی تو منجی تھی پتہ نہیں کہاں کہاں ”ڈانگ“ پھرواتے اور پٹواریوں کے لڑکے سے آنکھیں مرواتے۔ انہوں نے ان بلتیوں کو نرگس کی طرح نچوایا۔ تھوڑا سکون ہوا تو ہم میں سے کسی نے ”اے وطن پیارے وطن“ گنگنایا۔ بس پھر سب شروع ہو گئے اور بات ”زورداری ی ی ی- کھپے“ کے نعروں پر ختم ہوئی۔ بلتیوں کو تو جیسے جوش آ گیا، انہوں نے اپنی مقامی زبان میں کچھ لفظ بولنے شروع کر دیے اور اتنا ناچ کہ بے ہوش ہونے پر آ گئے۔ وہ جو لفظ بول رہے تھے وہ یہ تھے۔
”چُرُک چُرُک۔ ۔۔ چُرُک چُرُک۔۔۔ چُرُک چُرُک“
ہمیں نہیں پتہ تھا کہ ان الفاظ کا مطلب کیا ہے، جب ان سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ان کا کوئی مطلب نہیں بس جس طرح آپ اپنی زبان میں ”بلے بلے“ یا ”شاوا شاوا“ کہتے ہیں بالکل اسی طرح ہم ”چرک چرک“ کر رہے ہیں۔ خیر کچھ دیر تو ہم بھی انہیں ”چرک، چرک“ کرتے دیکھتے اور یہ سوچتے رہے کہ اس کا مطلب بلتیوں نے ٹھیک بتایا ہے یا پھر کہیں یہ کوئی گالی تو نہیں یا پھر کہیں یہ کوئی جادو ٹونہ تو نہیں کر رہے۔ خیر اردو لغت کہتی ہے کہ چُرُک کا مطلب ”پرندوں کی چیں چیں“ ہے۔ اب پتہ نہیں یہی ہے یا کچھ اور مگر اس چُرُک کے منتر نے اس رات ہمارا وہ حال کیا کہ اب یہ لفظ ساری زندگی نہیں بھولے گا۔


راما
کئی گھنٹوں کی چرک چرک سننے کے بعد رات کے ایک بجے آگ ٹھنڈی ہونے لگی اور ہم نے ان سے اجازت لی کہ ہم سارے دن کے تھکے ہوئے ہیں، اس لئے سونے چلتے ہیں۔ مگر بلتیوں نے کہا کہ نہ جی نہ آج تو ساری رات ہم آپ کی خاطر کریں گے۔ بچوں کو سمجھایا کہ آپ زیادہ سے زیادہ چار پانچ گھنٹے کی مسافت سے آئے ہو اور ہم دو دن سے چلے ہوئے ہیں اور ابھی بھی چودہ گھنٹے کا سفر کر کے آئے ہیں اس لئے سونے جا رہے ہیں۔ خیر ان سے زبردستی ہی جان چھڑائی۔ ہم سب اپنے اپنے خیموں میں چلے گئے۔ ڈرائیوروں نے گاڑی میں ہی سونے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ پہلے سے ہی سو رہے تھے۔ ہم سات دوستوں نے تین خیمے لگائے تھے۔ ایک خیمے میں عبدالستار اور میرجمال، ایک میں عبدالرؤف اور نجم اور ایک خیمے میں سلیم، عباس اور میں۔ اچانک ایک خیمے سے آواز بلند ہوئی ”اوئے مر گیا ااا“۔ یہ بالکل اسی طرح کی آواز تھی جو عبدالرؤف نے سفر کے دوران عباس کو دی تھی۔ ادھر ہمارے خیمے سے عباس نے ایسے الفاظ میں جواب دیا کہ مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ عباس بول رہا ہے۔ اتنے میں تیسرے خیمے کی دنیا بھی جاگ اٹھی۔ پھر بارود بھرے الفاظ کی ایسی بارش شروع ہوئی کہ ان تین خیموں کے لوگوں کو روندتی ہوئی پتہ نہیں کس کس صدر اور وزیراعظم کے محل تک پہنچی اور پھر تھکاوٹ کی مار مر گئی۔ اِدھر تو خاموشی ہو گئی مگر وہ بلتی تو ابھی تک دور کہیں چیخ چیخ کر چرک چرک کر رہے تھے۔ ابھی ہمیں نیند آنے ہی لگی تھی کہ ان جنگلی چرکوں نے ہمارے خیموں کے گرد ”جیگا لالا“ مچا دیا۔ پتہ نہیں کہاں سے سپیشل گلے لگوا کر آئے تھے، جب بولتے تو ایسا لگتا کہ ہمارے کانوں کے ساتھ ساتھ خیمے بھی پھٹ جائیں گے۔ پہلے سوچا کہ ان کو منع کیا جائے مگر عباس نے کہا کہ چپ کر کے لیٹے رہو، بچے ہیں خود ہی تھک کر باز آ جائیں گے۔ مگر ان میں آرام نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اب وہ ہمارے خیموں کو آگ سمجھ کر اس کے اردگرد چرک چرک کرتے ناچ رہے تھے۔

اوہ کوئی جاؤ، ان کے استاد کو بتاؤ کہ ان جنگلیوں کو سمجھائے۔ کوئی ان کا ترلا منت ہی کرو کہ چپ کر جائیں۔ ایک طرف ٹھنڈ تھی جو کہتی تھی کہ آج ہی ہوں اور دوسری طرف چُرُک چُرُک کے آگے تو پہاڑ بھی عاجز آ رہے تھے۔ جھرنوں نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ چاند ڈر کر بھاگ چکا تھا۔ درخت بت بنے کھڑے تھے اور ہم اس جنگل میں بے رحم جنگلیوں کی خوراک بنے ہوئے تھے۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ ہماری یہ رات پریوں کے نظارے سے جتنی اچھی شروع ہوئی تھی اس کا اختتام اتنا ہی برا ہونے والا ہے۔
Post a Comment

Add Of The Day